انسان کو بچپن سے جیسا ماحول ملے وہ اس کے مطابق اپنے آپ کو ڈھال لیتا ہے۔اسی دین و مذہب ،تہذیب وتمدن ثقافت ،روایات،زبان ، رہن سہن یہاں تک کے اپنی سوچ کو بھی کلچر کی پابندی پر مامور کر دیتا ہے۔ سماجی و معاشرتی بائیکاٹ کے ڈر سے وہ اپنی سوچ کو جگاتا نہیں ۔ ماضی میں گزرنے والے کچھ لوگ جنہوں نے فضول رسم و رواج اور پسماندہ سوچ کو پس پشت ڈالنے کی جرات کی انہیں اس وقت تو باغی قرار دیا گیا مگر آج ان کے کارناموں کو لوگ کتابوں میں پڑھنے کا شوق رکھتے ہیں اور فخر سے مثال دیتے ہیں۔
آج پاکستان کو کسی ایسے ہی باغی کی تلاش ہے جو قائد جیسا عمل اور رویہ لا کر اقبال کے شاہینوں کی روح کو بیدار کرے ۔ کیا پتا ہم میں سے ہی ایسا کوئی کسی کونے میں چھپا بیٹھا ہو مگر یہ لمبے ہاتھوں والے اور بھاری جیبوں والے اسے اوپر نہ آنے دے رہے ہوں۔ یا اس غریب کے پاس اتنی دولت نہ ہو کہ وہ اپنی آواز اس معصوم اور مظلوم قوم تک پہنچا سکے۔
کچھ ایسی سوچ کے افراد بھی پاۓ جاتے ہیں جو یہ کہتے ہیں رہنما سے کوئی فرق نہیں پڑتا جس قوم کے لوگ بلدیاتی انتخابات کے دوران معمولی سی رنجش پر لوگوں کا قتل کر دیں اس قوم کو رہنما کی نہیں ڈنڈے کی ضرورت ہے۔ یہاں پر پھر وہی بات ماحول اور خاندانی رسم و رواج کی آجاتی ہے یعنی جب کوئی بچہ اپنے باپ کو کسی غریب کے ساتھ زیادتی کرتے ، فائرنگ کرتے، کسی یتیم کا حق کھاتے یا کوئی بھی غیر شرعی یا غیر اخلاقی حرکت کرتے مسلسل طور پر دیکھے گا تو وہ اسے جائز سمجھنا شروع کر دے گا وہ بات اس کے دل و دماغ پر نقش ہو جائے گی۔پھر بڑا ہو کر وہ انھی باتوں کو دھراے گا اور پھر نسل در نسل یی سلسلا چلتا رہے گا۔ غیرت کے نام پر قتل کرنے کا تو عام رواج سا بن گیا ہے۔ونی جیسی رسم اور قرآن کے ساتھ نکاح بھی ہمارے ہاں ہی ہوتا ہے۔بیٹیوں کو وراثت میں حصہ نہ دینا بھی ایک جائز عمل سمجھا جاتا ہے۔اس بیس کڑور والی آبادی کے ملک میں صرف ایک راہنما سے تو کام نہیں چل سکتا۔ یہاں بات آتی ہے اس راہنما کی ٹیم کی جو اس کے ساتھ مل کر کام کرے گی۔ٹیم تو خیر سے پھر عام عوام سے ہی بنائی جائے گی۔
اتنی لمبی تمہید باندھنے کا مقصد عام عوام کی سوچ کو بدلنا ہے۔نقطہ یہ ہے کہ سوچ کو کیسے بدلہ جاسکتا ہے۔ماضی میں دانشوروں،ادیبوں ،علماء دین اور مفکرین نے یہ کام سر انجام دیا۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کسی مفکر یا دانشور کی آواز صوبہ سندھ کے علاقے تھر جہاں اِس وقت کا سب سے بڑا مسئلہ پانی ہے یا بلوچستان کے اس علاقے جہاں وڈیروں نے لوگوں کی سوچ پر تالے لگا رکھے ہیں یا پنجاب کے اس گاؤں جہاں الیکشن سے ایک دن پہلے گاؤں کا زمیندار ایک گھی کا ڈبہ اور ایک گندم کی بوری ہر گھر میں بھجوا کر حکم دیتا ہے کہ کل فلاں انتخابی نشان پر مہر لگا دینا یا صوبہ سرحد کے اس گھر میں جہاں گھر کی دیواروں پر اسلحہ کی نمائش کرکے عورتوں اور بچوں کو یہ باور کرایا جاتا ہے کہ اگر ہماری ہاں میں ہاں نہ ملائی تو انجام یہ ہو گا تک کیسے پہنچائی جائے۔
ظاہری سی بات ہے یہ وہی پاکستان کے وہی غیر ترقی یافتہ علاقے ہیں جہاں ابھی تک الیکٹرونک میڈیا نے پوری طرح سے قدم نہیں جمائے ہیں لیکن میڈیا سے ہم کسی قسم کی امید نہیں لگائیں گے کیوں کہ یہاں بھی جس لاٹھی اس کی بھنس والا حال ہے۔پاکستان میں میڈیا کے ادارے قوم کی رہنمائی کے لیے نہیں اپنی جیب بھرنے بیٹھے ہیں۔
اس لیے رہ سہ کے ایک حل تعلیم نظر آتا ہے جس کے ذریعے ہم لوگوں میں آگاہی پیدا کر سکتے ہیں۔تعلیم عام ہو گی تو سوچ بدلے گی۔مگر تعلیم کو ایسا ہونا چاہیے جو لوگوں کی سوچ کو بدلنے پر مجبور کر دے۔ اب اگر تعلیم دینے والے اداروں کی بات کی جائے تو میرے خیال سے اس کی اتنی کمی نہیں ہے جتنی کمی اچھے اساتذہ کی ہے۔ ایک سکول کی عمارت کے بغیر صرف ایک استاد کی مدد سے تعلیم دی جا سکتی ہے مگر استاد کے بغیر صرف ایک عمارت کسی کام کی نہیں۔ ایک استاد پیدائشی استاد ہوتا ہے وہ دوسروں تک علم پہنچانے کے تمام طریقوں سے واقف ہوتا ہے۔ بدقسمتی کے ساتھ ہمارے پاس ایسے اساتذہ کی کمی ہے۔ مگر خوشی اس بات کی ہے کہ ٹیچر ٹریننگ کے ذریعے ہم لوگوں میں بہترین اساتذہ والی خصوصیات پیدا کر سکتے ہیں۔اور اس کام میں مدد ہمیں منجھے ہوئے اساتذہ سے لینی ہوگی۔
جس دن پاکستان میں لوگ کمرہ جماعت میں استاد سے بیزار ہونا چھوڑ دیں گےاس وقت روشن مستقبل ہم سے چند قدم دور رہ جائے گا۔
(زینب ملک )
آج پاکستان کو کسی ایسے ہی باغی کی تلاش ہے جو قائد جیسا عمل اور رویہ لا کر اقبال کے شاہینوں کی روح کو بیدار کرے ۔ کیا پتا ہم میں سے ہی ایسا کوئی کسی کونے میں چھپا بیٹھا ہو مگر یہ لمبے ہاتھوں والے اور بھاری جیبوں والے اسے اوپر نہ آنے دے رہے ہوں۔ یا اس غریب کے پاس اتنی دولت نہ ہو کہ وہ اپنی آواز اس معصوم اور مظلوم قوم تک پہنچا سکے۔
کچھ ایسی سوچ کے افراد بھی پاۓ جاتے ہیں جو یہ کہتے ہیں رہنما سے کوئی فرق نہیں پڑتا جس قوم کے لوگ بلدیاتی انتخابات کے دوران معمولی سی رنجش پر لوگوں کا قتل کر دیں اس قوم کو رہنما کی نہیں ڈنڈے کی ضرورت ہے۔ یہاں پر پھر وہی بات ماحول اور خاندانی رسم و رواج کی آجاتی ہے یعنی جب کوئی بچہ اپنے باپ کو کسی غریب کے ساتھ زیادتی کرتے ، فائرنگ کرتے، کسی یتیم کا حق کھاتے یا کوئی بھی غیر شرعی یا غیر اخلاقی حرکت کرتے مسلسل طور پر دیکھے گا تو وہ اسے جائز سمجھنا شروع کر دے گا وہ بات اس کے دل و دماغ پر نقش ہو جائے گی۔پھر بڑا ہو کر وہ انھی باتوں کو دھراے گا اور پھر نسل در نسل یی سلسلا چلتا رہے گا۔ غیرت کے نام پر قتل کرنے کا تو عام رواج سا بن گیا ہے۔ونی جیسی رسم اور قرآن کے ساتھ نکاح بھی ہمارے ہاں ہی ہوتا ہے۔بیٹیوں کو وراثت میں حصہ نہ دینا بھی ایک جائز عمل سمجھا جاتا ہے۔اس بیس کڑور والی آبادی کے ملک میں صرف ایک راہنما سے تو کام نہیں چل سکتا۔ یہاں بات آتی ہے اس راہنما کی ٹیم کی جو اس کے ساتھ مل کر کام کرے گی۔ٹیم تو خیر سے پھر عام عوام سے ہی بنائی جائے گی۔
اتنی لمبی تمہید باندھنے کا مقصد عام عوام کی سوچ کو بدلنا ہے۔نقطہ یہ ہے کہ سوچ کو کیسے بدلہ جاسکتا ہے۔ماضی میں دانشوروں،ادیبوں ،علماء دین اور مفکرین نے یہ کام سر انجام دیا۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کسی مفکر یا دانشور کی آواز صوبہ سندھ کے علاقے تھر جہاں اِس وقت کا سب سے بڑا مسئلہ پانی ہے یا بلوچستان کے اس علاقے جہاں وڈیروں نے لوگوں کی سوچ پر تالے لگا رکھے ہیں یا پنجاب کے اس گاؤں جہاں الیکشن سے ایک دن پہلے گاؤں کا زمیندار ایک گھی کا ڈبہ اور ایک گندم کی بوری ہر گھر میں بھجوا کر حکم دیتا ہے کہ کل فلاں انتخابی نشان پر مہر لگا دینا یا صوبہ سرحد کے اس گھر میں جہاں گھر کی دیواروں پر اسلحہ کی نمائش کرکے عورتوں اور بچوں کو یہ باور کرایا جاتا ہے کہ اگر ہماری ہاں میں ہاں نہ ملائی تو انجام یہ ہو گا تک کیسے پہنچائی جائے۔
ظاہری سی بات ہے یہ وہی پاکستان کے وہی غیر ترقی یافتہ علاقے ہیں جہاں ابھی تک الیکٹرونک میڈیا نے پوری طرح سے قدم نہیں جمائے ہیں لیکن میڈیا سے ہم کسی قسم کی امید نہیں لگائیں گے کیوں کہ یہاں بھی جس لاٹھی اس کی بھنس والا حال ہے۔پاکستان میں میڈیا کے ادارے قوم کی رہنمائی کے لیے نہیں اپنی جیب بھرنے بیٹھے ہیں۔
اس لیے رہ سہ کے ایک حل تعلیم نظر آتا ہے جس کے ذریعے ہم لوگوں میں آگاہی پیدا کر سکتے ہیں۔تعلیم عام ہو گی تو سوچ بدلے گی۔مگر تعلیم کو ایسا ہونا چاہیے جو لوگوں کی سوچ کو بدلنے پر مجبور کر دے۔ اب اگر تعلیم دینے والے اداروں کی بات کی جائے تو میرے خیال سے اس کی اتنی کمی نہیں ہے جتنی کمی اچھے اساتذہ کی ہے۔ ایک سکول کی عمارت کے بغیر صرف ایک استاد کی مدد سے تعلیم دی جا سکتی ہے مگر استاد کے بغیر صرف ایک عمارت کسی کام کی نہیں۔ ایک استاد پیدائشی استاد ہوتا ہے وہ دوسروں تک علم پہنچانے کے تمام طریقوں سے واقف ہوتا ہے۔ بدقسمتی کے ساتھ ہمارے پاس ایسے اساتذہ کی کمی ہے۔ مگر خوشی اس بات کی ہے کہ ٹیچر ٹریننگ کے ذریعے ہم لوگوں میں بہترین اساتذہ والی خصوصیات پیدا کر سکتے ہیں۔اور اس کام میں مدد ہمیں منجھے ہوئے اساتذہ سے لینی ہوگی۔
جس دن پاکستان میں لوگ کمرہ جماعت میں استاد سے بیزار ہونا چھوڑ دیں گےاس وقت روشن مستقبل ہم سے چند قدم دور رہ جائے گا۔
(زینب ملک )
No comments: