کہا جاتا ہے لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانتے مگر کبھی کبھی ان لاتوں کے بھوتوں کی وجہ سے باتوں کےبھوتوں کوبھی لاتیں کھانی پڑتی ہیں۔
لیکن خیر ہےکوئی بات نہیں کی...ونکہ دکھ تب ہوتا ہے جب لاتوں کے بھوت کو باتوں سے سمجھایا جا رہا ہو اور باتوں کےبھوت کو مفت میں لاتوں سے نوازا جا رہا ہو.
یہ صورتحال تب ہوتی ہے جب مجرم طاقتور بن جاتا ہےاور قانون کمزور۔کوئی مجرم کبھی بھی بیٹھے بٹھائے طاقتور نہیں بنتا ۔اسے ایک عرصہ درکار ہوتا ہے معاشرے میں اپنے قدم جمانے کے لیے اور یہ وہی عرصہ ہوتا ہے جب قانون غفلت کی نیند سوتا ہے اور چھوٹے چھوٹے جرائم کی روک تھام کے لیے قدم نہیں اٹھاتا۔ پھر ایک وقت آتاہے جب وہ چھوٹے چھوٹے جرائم ایک بڑے اژدہے کاروپ اختیار کر کے قانون کے گلے کا پھندہ بن جاتے ہیں۔ اس وقت قانون چاہتے ہوئے بھی ایک دم سے اسے اپنے ساتھ سے نہیں اتار سکتا۔ مگر اگر جدوجہت جاری رکھے تو کامیاب ہو سکتا ہے کیونکہ قانون کےہاتھ لمبے ہوتے ہیں۔
پاکستانی قانون اس وقت اسی صورتحال سے گزر رہا ہے ۔ اور ہمیں محب الوطنی کا ثبوت دیتے ہوئے اپنے اداروں کا ساتھ دینا ہو گا۔ کیونکہ برائی پھیلانے کی نسبت دور کرنے میں زیادہ وقت لگتا ہے۔
(زینب ملک)

No comments:

Powered by Blogger.