کچھ عرصہ پہلے تک میں بھی اکثریت کی طرح ہر بات کا ذمہ دار حکومت کو ٹھہرایا کرتی تھی۔مگر جیسے جیسے وقت گزرا سوچ میں تبدیلی آئی اور اس تبدیلی کی وجہ عام عوام کا رویہ ہے۔
میں اکثر سوچا کرتی تھی باقی پبلک پلیسسز کے آلودہ ہونے کی تو وجہ سمجھ میں آتی ہے کہ وہاں ہر قسم کی جاہل، ان پڑھ عوام آتی ہے ۔ لیکن تعلیمی اداروں کے گراونڈز ،کلاس رومز اور باتھرومز کیوں گندے ہوتے ہیں کیونکہ انتظامیہ نےتو خاکروب بھی رکھےہوے ہیں جوباقاعدگی سے صفائی بھی کرتے ہیں پھر سوچاجہاں گندگی پھلانے والے زیادہ ہوں گے اور صاف کرنے والے کم وہاں یہی حال ہوگا۔
پچھلے دنوں کی بات ہے میں اپنی سہیلیوں کے ساتھ یونیورسٹی کے گراونڈ میں بیٹھی تھی اور ہم سب کچھ نہ کچھ کھا رہے تھے۔کلاس کاوقت ہوتے ہی اٹھ کھڑے ہوئے۔مگرہم سے اتنی زحمت نہ ہوئی کہ ان چھلکوں اور خالی پیکیٹس کو کوڑادان میں ڈالتے جائیں۔ان کوہم نے وہاں ہی پڑا چھوڑ دیا۔میں نےاپنے ریپر اٹھا لیے اور ان کے ساتھ چل پڑی یہ دیکھ کربھی انہیں شرم نہیں آئی کہ اپناپھلایا ہواگند اٹھانے کی زحمت کر لیں۔راستے میں کوڑادان آیا میں نےوہاں پھینک دیے۔اگلے دن پھر ایسا ہوا کچھ عرصہ میں نے برداشت کیا مگرجب دیکھا کہ یہاں تو کانوں پرجوں تک نہیں رینگی توسیدھاکہ ڈالاکہ یار!سولہ سال تم لوگوں نے برباد کر ڈالے پڑھائی کرنے میں کوئی مزدوری کر لیتے کم سے کم پڑھا لکھا ہونے کا سرٹیفیکیٹ تو نہ ہوتا تم لوگوں کے پاس کیونکہ حرکتوں سے تو لگتا نہیں ہے کہ تم لوگ یونیورسٹی لیول کے طالبعلم ہو۔ اس لیکچر کا کچھ تو اثر ہوا تھا کیونکہ اس کے بعد میرے سامنے ان لوگوں نے ایسا کوئی کام نہیں کیا ۔میرے خیال سے اس تحریر کے بعد میری سہیلیوں کو اور شرمندگی محسوس ہو گی اور زندگی بھر اب ایسا نہیں کریں گی مجھے پوری امید یے۔
لیکن پکڑ پکڑ کرہم ہرشخص کو یہ بات نہیں سمجھا سکتے خاص طور پر تب جب کسے اجنبی کو ہم ایسی حرکت کرتے دیکھتے ہیں۔جیسے ابھی کچھ دن پہلے امتحانات کے دنوں کی بات ہے 2:30 بجے پیپر شروع ہوتا تھا اور 5:30 پر ختم 6:00 بجے بس چل پڑتی تھی۔وقت کی کمی کی وجہ سے لڑکیاں اکثر کھانے پینے کا سامان ساتھ لے لیتیں اور بس میں کھاتیں۔اس دن میں کھڑکی کےساتھ والی سیٹ پر بیٹھی تھی۔ابھی بس چلے بیس منٹ ہوۓ تھے کہ میری ساتھ والی سیٹ پر بیٹھی لڑکی نے ڈسپوزل ایبل پلیٹ اور خالی جوس کا ڈبہ دیتے ہوئے کہا ''یہ باہر پھینک دیں'' اسے پیچھے سے کسی نے دیےتھے شاید میں نے کہا '' جس نے دیے ہیں اسےبولو ابھی سیٹ کے نیچے رک لے جب نیچے اترے تو ساتھ لیتی جائے '' اس لڑکی نے پلیٹ اور ڈبہ واپس کرنے کےلیے منہ موڑا ہی تھا کہ پیچھے سے آواز آئی '' ارے یار اس سے اگلی سیٹ والی کو پکڑ ا دو وہ پھینک دے گی" اس لڑکی نے ایک نطر مجھے دیکھا اور پھر اگلی سیٹ والی کو پکڑا دیے ۔ اگلی سیٹ والی بھی ذہنی لحاظ سے پچھلی سیٹ والی کی بہن ہی تھی جس نے وہ کچرا کروڑوں روپے لگاکر بنائی گئی صاف ستھری اسلام آباد کی خوبصورت سڑک پر پھینک دیا۔
میں افسوس کرنے کے سوا کچھ نہ کر سکی اور یہ سوچ کر چپ رہی کہ عزت انسان کے اپنے ہاتھ میں ہوتی ہے کیونکہ اگر میں وہاں بات کو طول دیتی تو اس لڑکی نے کہنا تھا ''بہن تم اپنے کام سے کام رکھو زیادہ سبق پڑھانے کی ضرورت نہیں'' یہ وہ عام طور پربولے جانے والا جملا ہے جو اگر کسی اجنبی کو کسی غلط کام سے روکو تو سننے کو ملتا ہے۔اور میں اس وقت یہ جملا سننے کے موڈ میں نہیں تھی۔
مگر میں چاہتی ہوں کہ یہ بیس کڑور کی عوام ان چھوٹی چھوٹی باتوں کو سمجھےاور ان پر عمل کرے۔کیونکہ حکمران ہمیں نہیں کہتے کہ چلتی ہوئی سٹوڈنٹ بس سے کچرا باہر پھینکو۔
میں نے توجہ دیکھنے میں ایک بہت معمولی عمل کی جانب کروائی ہے مگر کہتے ہیں اگر بہتری کی جانب بڑھنا ہے تو ابتدا ہمیشہ چھوٹی چھوٹی غلطیوں کو درست کر کے کرنی چاہیے۔
( زینب ملک)
میں اکثر سوچا کرتی تھی باقی پبلک پلیسسز کے آلودہ ہونے کی تو وجہ سمجھ میں آتی ہے کہ وہاں ہر قسم کی جاہل، ان پڑھ عوام آتی ہے ۔ لیکن تعلیمی اداروں کے گراونڈز ،کلاس رومز اور باتھرومز کیوں گندے ہوتے ہیں کیونکہ انتظامیہ نےتو خاکروب بھی رکھےہوے ہیں جوباقاعدگی سے صفائی بھی کرتے ہیں پھر سوچاجہاں گندگی پھلانے والے زیادہ ہوں گے اور صاف کرنے والے کم وہاں یہی حال ہوگا۔
پچھلے دنوں کی بات ہے میں اپنی سہیلیوں کے ساتھ یونیورسٹی کے گراونڈ میں بیٹھی تھی اور ہم سب کچھ نہ کچھ کھا رہے تھے۔کلاس کاوقت ہوتے ہی اٹھ کھڑے ہوئے۔مگرہم سے اتنی زحمت نہ ہوئی کہ ان چھلکوں اور خالی پیکیٹس کو کوڑادان میں ڈالتے جائیں۔ان کوہم نے وہاں ہی پڑا چھوڑ دیا۔میں نےاپنے ریپر اٹھا لیے اور ان کے ساتھ چل پڑی یہ دیکھ کربھی انہیں شرم نہیں آئی کہ اپناپھلایا ہواگند اٹھانے کی زحمت کر لیں۔راستے میں کوڑادان آیا میں نےوہاں پھینک دیے۔اگلے دن پھر ایسا ہوا کچھ عرصہ میں نے برداشت کیا مگرجب دیکھا کہ یہاں تو کانوں پرجوں تک نہیں رینگی توسیدھاکہ ڈالاکہ یار!سولہ سال تم لوگوں نے برباد کر ڈالے پڑھائی کرنے میں کوئی مزدوری کر لیتے کم سے کم پڑھا لکھا ہونے کا سرٹیفیکیٹ تو نہ ہوتا تم لوگوں کے پاس کیونکہ حرکتوں سے تو لگتا نہیں ہے کہ تم لوگ یونیورسٹی لیول کے طالبعلم ہو۔ اس لیکچر کا کچھ تو اثر ہوا تھا کیونکہ اس کے بعد میرے سامنے ان لوگوں نے ایسا کوئی کام نہیں کیا ۔میرے خیال سے اس تحریر کے بعد میری سہیلیوں کو اور شرمندگی محسوس ہو گی اور زندگی بھر اب ایسا نہیں کریں گی مجھے پوری امید یے۔
لیکن پکڑ پکڑ کرہم ہرشخص کو یہ بات نہیں سمجھا سکتے خاص طور پر تب جب کسے اجنبی کو ہم ایسی حرکت کرتے دیکھتے ہیں۔جیسے ابھی کچھ دن پہلے امتحانات کے دنوں کی بات ہے 2:30 بجے پیپر شروع ہوتا تھا اور 5:30 پر ختم 6:00 بجے بس چل پڑتی تھی۔وقت کی کمی کی وجہ سے لڑکیاں اکثر کھانے پینے کا سامان ساتھ لے لیتیں اور بس میں کھاتیں۔اس دن میں کھڑکی کےساتھ والی سیٹ پر بیٹھی تھی۔ابھی بس چلے بیس منٹ ہوۓ تھے کہ میری ساتھ والی سیٹ پر بیٹھی لڑکی نے ڈسپوزل ایبل پلیٹ اور خالی جوس کا ڈبہ دیتے ہوئے کہا ''یہ باہر پھینک دیں'' اسے پیچھے سے کسی نے دیےتھے شاید میں نے کہا '' جس نے دیے ہیں اسےبولو ابھی سیٹ کے نیچے رک لے جب نیچے اترے تو ساتھ لیتی جائے '' اس لڑکی نے پلیٹ اور ڈبہ واپس کرنے کےلیے منہ موڑا ہی تھا کہ پیچھے سے آواز آئی '' ارے یار اس سے اگلی سیٹ والی کو پکڑ ا دو وہ پھینک دے گی" اس لڑکی نے ایک نطر مجھے دیکھا اور پھر اگلی سیٹ والی کو پکڑا دیے ۔ اگلی سیٹ والی بھی ذہنی لحاظ سے پچھلی سیٹ والی کی بہن ہی تھی جس نے وہ کچرا کروڑوں روپے لگاکر بنائی گئی صاف ستھری اسلام آباد کی خوبصورت سڑک پر پھینک دیا۔
میں افسوس کرنے کے سوا کچھ نہ کر سکی اور یہ سوچ کر چپ رہی کہ عزت انسان کے اپنے ہاتھ میں ہوتی ہے کیونکہ اگر میں وہاں بات کو طول دیتی تو اس لڑکی نے کہنا تھا ''بہن تم اپنے کام سے کام رکھو زیادہ سبق پڑھانے کی ضرورت نہیں'' یہ وہ عام طور پربولے جانے والا جملا ہے جو اگر کسی اجنبی کو کسی غلط کام سے روکو تو سننے کو ملتا ہے۔اور میں اس وقت یہ جملا سننے کے موڈ میں نہیں تھی۔
مگر میں چاہتی ہوں کہ یہ بیس کڑور کی عوام ان چھوٹی چھوٹی باتوں کو سمجھےاور ان پر عمل کرے۔کیونکہ حکمران ہمیں نہیں کہتے کہ چلتی ہوئی سٹوڈنٹ بس سے کچرا باہر پھینکو۔
میں نے توجہ دیکھنے میں ایک بہت معمولی عمل کی جانب کروائی ہے مگر کہتے ہیں اگر بہتری کی جانب بڑھنا ہے تو ابتدا ہمیشہ چھوٹی چھوٹی غلطیوں کو درست کر کے کرنی چاہیے۔
( زینب ملک)
No comments: