شکریہ اگست !

آج صبح یونیورسٹی جاتےہوئے راستے میں ایک غیرمعمولی
 منظردیکھنے کو ملا ۔میں نے دیکھا کہ سڑک کے کنارے تھوڑے تھوڑے فاصلے پر پاکستانی جھنڈوں کی ایک عارضی دکان موجود تھی ، جہاں جھنڈے فروخت کیے جا رہے تھے پہلے تو میں نےاس سب کو حیرانگی سے دیکھا کیونکہ سال کے گیارہ ماہ میں اسی راستے سے گزری تھی ،اور وہاں کبھی جھنڈا نظر نہیں آیا  مگر مجھے چند سیکنڈ لگے یہ یاد آنے میں کہ اگست کا مہینہ شروع ہو چکا ہے۔میری سوچ نے اس منظر کو ایک پھیکی مسکراہٹ کے ساتھ قید کر لیا ۔ مگر وہ دیکھنے کے بعد سے اب تک پاکستان کا ذرہ ذرہ مجھے یہ کہتے سنائی دے رہا ہے ٰ ٰ  شکریہ اگست پاکستانیوں کو میرا جھنڈا تو یاد آیا ،کیا ہوا جو ملک بھلایا ٰ ٰ ۔ کیا آپ کو نہیں لگتا ملکِ پاکستان ہمیں بھول سا گیا ہے۔ کیونکہ ہمارے رویے، ہمارے اعمال، ہماری سوچ اس بات کی ترجمانی کرتے نظر نہیں آتے کہ اے وطن ہمیں تجھ سے پیار ہے ۔ کیا صرف اگست کے مہینے میں دو چار جھنڈے لگا لینے سے یا جیوے جیوے پاکستان گا لینے سے وہ قرض ادا ہو جاے گا جو مٹی کا ہم پر ہے، یقیناً نہیں  ۔ دراصل ہم سب دھوکے میں ہیں، ہمیں اس بات کی تو خوشی ہے کہ غلامی کی زندگی سے جان چھوٹی مگر اس بات کا احساس تک نہیں کہ لاپرواہ رویہ، سہل پسندی ،بے حیائی ، اسلامی نظرایات سے ناواقفیت ، دھوکہ دہی جیسی معاشی بیماریاں ہمارے منہ کو آئی ہوئی ہیں  اور سب سے بڑھ کر غلامی کی سوچ تو جیسے چپک ہی گئی ہے۔ ایک نوجوان کی حیثیت سے مجھے اس بات کا نہایت افسوس ہے کہ پاکستانینوں کی اکثریت اس قدر ذہنی پستی کا شکار ہے کہ وہ اپنی ساری زندگی ان کاموں میں گزار دیتی ہے جس سے انفرادی یا اجتماعی طور پر کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ اس لیے آپ چودہ اگست منانے کے ساتھ ساتھ  یہ ضرور دیکھ لینا کہ پاکستان آخر چاہتا کیا ہےاور ہم اسے دے کیا رہے ہیں ۔

(زینب ملک )

No comments:

Powered by Blogger.