آج میں نکلی ہوں اردو کی تلاش میں وہ اردو جوقیام پاکستان کےوقت تو ہمیں یاد تھی اور بڑے زور وشور سے کہا جاتا تھا کہ برصغیر کے مسلمانوں کی جہاں باقی دوسری باتیں ہندوؤں سے مختلف ہیں وہاں زبان کا فرق بھی ہے اور اسے بنیاد بنا کر الگ وطن کا مطالبہ کیا گیا۔ مگر آج وہی اردو کہیں کھو سی گئی ہے ۔اردو کہاں ہے؟ آج 67 سالوں بعد اگر ہم اردگرد دیکھیں تو کیا اردو کو وہ مقام حاصل ہے جو بحثیت قومی زبان ہونا چاہیے۔

پاکستان میں صوبائی پانچ چھ زبانیں بولی جاتی ہیں جن کی آگے سے بھی کئ قسمیں ہیں جیسے پنجابی کی ہندکو ، سرائیکی،پٹھواری وغیرہ۔یہ وہ زبانیں ہیں جو لوگ روزمرہ زندگی میں بولتے ہیں۔
میں ہرگز یہ نہیں کہتی کہ لوگ ان زبانوں کو چھوڑ کر اردو بولنا شروع کر دیں۔کیونکہ یہ صوبائی زبانیں بھی ہمارا اثاثہ ہیں اور انوکھے پن کا ثبوت پیش کرتی ہمیں انہیں بھی سنبھال کر رکھنا ہے ۔مگر اردوکو وہ مقام ضرور دیناہو گا جس کی وہ حقدار ہے۔

دکھ تو اس بات کا یے کہ حالات اتنے خراب ہو گۓ ہیں کہ ہمارا کوئی جملہ انگریزی کے کسی لفظ کو استعمال کیے بغیر مکمل ہی نہیں ہوتا۔
انگلش میڈیم اسکولوں نےہماری نئ نسل کو زبان کے لحاظ سے انگریز بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔

اوپر سے یہ سوچ اور رویہ کہ جو شخص فرفر انگریزی  بولتا ہے وہ عالم فاضل ہے اور جو ذرا انگریزی میں کمزور ہے اس سے بڑا نالائق تو کوئی دوسرا ہے ہی نہیں۔ اس سوچ کو پھیلانے میں سب سے زیادہ قصوروار ہمارا تعلیمی نظام ہے بارہویں جماعت کے بعد اردو کو بطور لاظمی مضمون ختم ہی کر دیا جاتا ہے حالانکہ انگریزی کو سولہویں جماعت تک پڑھایا جاتا ہے۔

 بے شک ہمیں سرکاری اور دفتری معاملات کو حل کرنے کے لیے انگریزی آنی نہایت ضروری ہے اسی لیے ہماری تعلیم میں انگریزی ایک خاص حیثیت رکھتی ہے مگر عام زندگی می انگریزی کو سر پر بیٹھا کر رکھنے کی بھلا کیا ضرورت ہے؟

جہاں باقی بہت سے بے ڈھنگ فیشن نکلے ایک انگریزی بولنے کا فیشن بھی عام ہے۔ اگر آپ نے کسی کو متاثر کرنا ہے تو سب سے اچھا طریقہ ہے کہ اس شخص کےسامنے  روانی کے ساتھ  انگریزی میں بات کرو۔

ایک زمانہ ہوتا تھا گھر کی شیلفوں پر اشفاق احمد، ممتاز مفتی،بانو قدسیہ اور علامہ اقبال جیسے دانشوروں کی کتابیں رکھی ملتی تھی۔ آج تو اکثر گھروں میں وہ شیلفیں ہی ختم ہو گئی ہیں۔ اگر کہیں ہیں بھی تو ان پر انگلش لٹریچر ہی پڑا نظر آتا ہے۔بہت کم لوگ آپ کو اردو ادب کو زندہ رکھے نظر آئیں گے۔

سرسیداحمد خان نے مسلمانوں کو انگریزی زبان کو سیکھنے کی طرف راغب کیا تھا ۔ کیونکہ اس وقت انگریزی کو سیکھے بغیر انگریزوں سے آزادی حاصل کرنا مشکل تھا۔ اور آج بھی ترقی کرنے کے لیے انگریزی زبان کی اہمیت اپنی جگہ موجود ہے۔کسی بات کو سیکھنے اور اپنانے میں بڑا واضح فرق پایا جاتا ہے۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ ہم نےصرف انگریزی کو سیکھا نہیں بلکہ اسے مکمل طور پر اپنا لیا ہے۔

اردو ہمارا قومی اثاثہ ہےجو ہمارے آباؤ اجداد کی ہمارے پاس امانت ہے جسے بحفاظت ہم نےہر صورت اپنی آنے والی نسلوں تک پہنچانا یے۔ذرا سوچئے کہیں باقی قومی اثاثوں کی طرح ہم اردو کوبھی بے دھیانی میں کہیں بھول تو نہیں گۓ؟ مکمل طور پر نہ سہی مگر آہستہ آہستہ ہم یقینًا ًاسے بھولتے جا رہے ہیں۔

اس سے پہلے کہ اردو کی حیثیت میں مزید کمی آئے۔ایک قومی ذمہ داری سمجھ کر اردو کو اپنی روز مرہ کی زندگی میں عام کریں۔

اور کچھ نہیں تو کم سے کم اپنے گھروں کے باہر لگی تختی کے اوپر انگریزی میں لکھے نام کے ساتھ ،اردو میں بھی نام لکھ دیں اور جن لوگوں کی رشتےداری کسی انگریز کےساتھ نہیں ہے ان کی طبیعت پر اگر گراں نہ گزرے توصرف اردو میں ہی نام لکھیں تو زیادہ بہترہوگا۔

اس سے پہلے جب کبھی بھی کسی سے اس موضوع پر بات ہوئی تو جواب یہی ملا ہم کیا کریں سرکاری زبان جو انگریزی ہے حکومت کو چاہیے کہ اردو کو سرکاری زبان کی حیثیت دے تو کچھ بات بنے گی۔
میرا نقطۂ نظر یہ ہے کہ ہم ہر بات کا رخ حکومت کی طرف کیوں موڑ دیتے ہیں۔پچھلے 67سالوں سےہم حکومت حکومت کرتے آرہے ہیں۔بھئ کچھ انفرادی ذمےداریاں بھی ہوتی ہیں جن کاپورا کرنا قوم کے ہر فرد پرلاگو ہوتا ہے۔
کاش کہ ہم ہر وقت حکومت کی طرف دیکھنے کے بجائے احساس ذمےداری کاثبوت دیتے ہوئے اپنے انفرادی فرائض کو سمجھیں اور ان کو پورا کرنے کی بھر پور کوشش کریں۔
(زینب ملک)

No comments:

Powered by Blogger.